بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طواف كی دو ركعات میں تاخیر کرنا

سوال

طواف کی دو رکعات واجبہ مکروہ وقت ہونے کی وجہ سے، سعی کے بعد پڑھنا کیسا ہے؟

جواب

 واضح رہے کہ طواف کے بعد دو رکعات پڑھنا واجب ہے، اور کسی مکان یا وقت کے ساتھ خاص نہیں، البتہ مسنون یہ ہے کہ اسے طواف کے فوراً بعد پڑھا جائے ، اور اوقات مکروہہ کے علاوہ میں اس كو  مؤخر  کرنا مکروہ ہے۔

صورتِ مسئولہ میں طواف کی دو رکعاتِ واجبہ کو اوقا ت مکروہہ ہونے کی وجہ سے سعی کے بعد پڑھنا بغیر کسی کراہت کے جائزہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وروي عن ابن عمر رضي الله عنهما أنه طاف بعد طلوع الفجر سبعة أشواط ولم يصل حتى خرج إلى ذي طوى وصلى ثمة بعد ما طلعت الشمس وقال ركعتان مكان ركعتين ولو كان أداء ركعتي الطواف بعد طلوع الفجر الشمس جائزا من غير كراهة لما أخر لأن أداء الصلاة بمكة أفضل خصوصا ركعتا الطواف."

(بدائع الصنائع: كتاب الصلاة، ج:2 ص:294، ط: دار الكتل العلمية)

منحۃ الخالق  علی البحر الرائق میں ہے:

"(قوله فواجبة على الصحيح) أي بعد كل طواف فرضا كان أو واجبا أو سنة أو نفلا ولا يختص جوازها بزمان ولا بمكان ولا تفوت ولو تركها لم تجبر بدم ولو صلاها خارج الحرم ولو بعد الرجوع إلى وطنه جاز، ويكره والسنة الموالاة بينها وبين الطواف."

(البحر الرائق شرح كنز الدقائق: كتاب الحج، باب الإحرام، ج:2 ص:580، ط:دار الكتب العلمية)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509100212
تاریخ12-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں