بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تبلیغی مراکز میں سپیکر استعمال نہ ہونے کی وجہ

سوال

تبلیغی مراکز میں سپیکر کیوں استعمال نہیں ہوتے؟

جواب

اسپیکر کا استعمال نماز میں جائز اور درست ہے لازم نہیں ہے،  اور اسپیکر سے بلند ہونے والی آواز بھی امام کی اصل آواز ہے،لہذا مساجد میں اسپیکر اور مائک کا استعمال کرنا جائز ہے۔

باقی تبلیغی مراکز میں نماز کے اسپیکر کا استعمال کیوں نہیں ہوتا اس کا جواب انہی لوگوں سے معلوم کر لیا جاۓ، باقی چونکہ یہ لازم نہیں اس لیے وہ حضرات اس سے بچتے ہیں، شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں ہے، البتہ استعمال کرنے میں آسانی ہے۔

(کتاب آلاتِ جدیدہ کے شرعی احکام(مفتی محمد شفیع صاحب)،آلہ مکبر الصوت کے شرعی احکام،ص:32)

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي حاشية أبي السعود: واعلم أن التبليغ عند عدم الحاجة إليه بأن بلغهم صوت الإمام مكروه. وفي السيرة الحلبية: اتفق الأئمة الأربعة على أن التبليغ حينئذ بدعة منكرة أي مكروهة وأما عند الاحتياج إليه فمستحب."

(کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ،مطلب فی التبلیغ خلف الامام،475/1،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509100211
تاریخ12-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں