بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا جمعہ کی نماز سے پہلے کوئی سنت نماز ہے؟

سوال

کیا جمعہ کی نماز سے پہلے کوئی سنت نماز ہے؟

جواب

جمعہ کی فرض نماز سے پہلے چار رکعتیں ایک سلام کے ساتھ پڑھنا سنتِ مؤکدہ ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"‌وأما ‌السنة ‌قبل ‌الجمعة وبعدها فقد ذكر في الأصل: وأربع قبل الجمعة، وأربع بعدها، وكذا ذكر الكرخي، وذكر الطحاوي عن أبي يوسف أنه قال يصلي بعدها ستا وقيل: هو مذهب علي - رضي الله عنه - وما ذكرنا أنه كان يصلي أربعا مذهب ابن مسعود، وذكر محمد في كتاب الصوم أن المعتكف يمكث في المسجد الجامع مقدار ما يصلي أربع ركعات، أو ست ركعات أما الأربع قبل الجمعة؛ فلما روي عن ابن عمر - رضي الله عنه - «أن النبي - صلى الله عليه وسلم - كان يتطوع قبل الجمعة بأربع ركعات» ؛ ولأن الجمعة نظير الظهر، ثم التطوع قبل الظهر أربع ركعات كذا قبلها."

(كتاب الصلاة، ج:١، ص:٢٨٥، ط:دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509100119
تاریخ11-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں