بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مکان خریدنے کے لئے بینک سے قرض لینے کا حکم

سوال

اگر چالیس پچاس لاکھ کا مکان خریدنا ہو تو ایک ساتھ پورا پیسہ ادا کرنے میں بھی حرج ہے اور اگر قسط وار دینا چاہتے ہیں تو جو رواج چل رہا ہے بینکوں کے ذریعہ ادا کرنے کا اس میں سود سے بچنا مشکل ہورہا ہے۔

جواب

صورت مسئولہ میں متعین مدت کے لئے کسی دوست احباب سے قرض لے لیں، اور وعدہ کے مطابق اس مدت کے اندر اندر اس قرض کو واپس کرنےکے لئے کوشش بھی کرتے رہیں۔باقی مکان وغیرہ خریدنے کے لیے کسی  بینک سے سودی قرض لینا  شرعاً جائز نہیں۔  جب تک ذاتی  مکان کا انتظام نہ ہو کرایہ وغیرہ میں رہائش اختیار  کی جاسکتی  ہے۔ 

کنز العمال میں ہے:

"درهم ‌ربا ‌أشد ‌عند الله من ستة وثلاثين زنية."

(‌‌كتاب البيوع‌‌، الباب الرابع: في الربا، ‌‌الفصل الأول: في الترهيب عنه: 4/ 106، ط:مؤسسة الرسالة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509100030
تاریخ11-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں