بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رمضان میں روزہ کی حالت میں جماع کا حکم

سوال

آج تاریخ ۱۱ مارچ ۲۰۲۴ میں سعودیہ کے ہمراہ  کئی ممالک میں رمضان کا پہلا روزہ ہے اور یہاں افغانستان میں بھی رمضان کے پہلے روزے کا اعلان کیا گیاہے، جب کہ ایشیاء کے کئی ممالک میں آج رمضان نہیں  ہے،ان شاءاللہ کل سے شروع ہوگا ،اب سوال یہ ہے کہ ایک بندہ جو افغانستان کا رہنے والا اس نے آج سحری کی اور فرضی روزے کی نیت بھی کی، لیکن اس نے آج صبح قصداً جماع کیا ہے اور اس کو یاد بھی تھا کہ آج میں نے روزہ رکھا ہےاس کا کیا حکم ہے کفارہ لازم ہوگا اس بندے پر یا نہیں ؟

جواب

صورت مسئولہ میں رمضان میں روزہ کی حالت میں جماع کرنے کی وجہ سے دونوں ( میاں ،بیوی)پر  روزہ کی قضا اور کفارہ دونوں لازم ہیں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"من جامع عمدا في أحد السبيلين فعليه القضاء والكفارة، ولا يشترط الإنزال في المحلين كذا في الهداية. وعلى المرأة مثل ما على الرجل إن كانت مطاوعة، وإن كانت مكرهة فعليها القضاء دون الكفارة، وكذا إذا كانت مكرهة في الابتداء ثم طاوعته بعد ذلك كذا في فتاوى قاضي خان."

(کتاب الصوم ،الباب الرابع فیما یفسد ومالایفسد ،ج:1،ص:205،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509100013
تاریخ11-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں