بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رجوع کے لیے عورت کی رضامندی شرط نہیں

سوال

کیا طلاق رجعی میں رجوع کےلئے عورت کی رضا مندی ضروری ہے اگر ایک شخص نے بیوی کی غیر موجودگی میں ایک طلاق دی اور اور ہفتے بعد جماع کر لیا ،کیا ایسی صورت میں رجوع ہو گیا جبکہ بیوی بالکل بے خبر ہے ۔

جواب

طلاق رجعی دینے کے بعد رجوع کرنے کے  لئےعورت کی رضامندی ضروری نہیں ہے،لہذا اگر ایک یا دو طلاق رجعی دینے کے بعد عدت کے دوران  شوہر زبان سے رجوع کرلے یا بیوی سے جسمانی تعلق قائم کرلے(لیکن  رجوع کا یہ طریقہ پسندیدہ نہیں) تو اس سے بھی رجوع ہوجاتا ہے ۔

الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:

"وتصح مع إكراه وهزل ولعب وخطإ (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة (بكل ما يوجب حرمة المصاهرة) كمس ولو منها اختلاسا، أو نائما، أو مكرها أو مجنونا، أو معتوها إن صدقها هو أو ورثته بعد موته جوهرة ورجعة المجنون بالفعل بزازية.

(قوله: وبالفعل) هذا ليس من الصريح ولا الكناية لأنهما من عوارض اللفظ فافهم، نعم ظاهر كلامهم أن الفعل في حكم الصريح لثبوت الرجعة به من المجنون كما يأتي (قوله: مع الكراهة) الظاهر أنها تنزيه كما يشير إليه كلام البحر في شرح قوله والطلاق الرجعي لا يحرم الوطء رملي."

(کتاب الطلاق،باب الرجعۃ،ج3،ص398،ط؛سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509100007
تاریخ11-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں