بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رقم دے کر سونے کا مطالبہ کرنا

سوال

شوہر نے 4 تولہ سونا بیوی کے حکم سے فروخت کیا،اور اس کی رقم 3لاکھ 40 ہزار لا کر بیوی کو دے دی، شوہر نے سونا فروخت کرنے کا مشورہ نہیں دیا تھا، تین چار ماہ رقم بیوی کے پاس ہی تھی، پھر شوہر کے مشورے سے بیوی نے وہ رقم شوہر کے دوست کے پتی کے کاروبار میں لگوائی، وہاں سے ہر ماہ نفع ملتا تھا، اب علیحدگی ہو گئی، تو شوہر نے پتی کے کاروبار کرنے والے سے وہ رقم واپس مانگ لی اور یہ رقم مکمل 3 لاکھ 40 ہزار روپے شوہر کے پاس موجود ہیں۔

اب بیوی کا مطالبہ یہ ہے کہ مجھے یہ رقم نہیں چاہیے بلکہ 4تولہ سونا چاہیے، کیا بیوی کا یہ مطالبہ درست ہے؟

معلوم یہ کرنا ہے کہ شوہر بیوی کو سونا ادا کرے گا یا رقم؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃ شوہر نے بیوی کے کہنے پر بیوی کا سونا فروخت کر کے اس کی رقم بیوی کو دے دی تھی ، اس کے بعد بیوی کے کہنے پر شوہر نے اپنے دوست کے  کاروبار میں لگانے کے لیے تھے، اور جو نفع آتا تھا وہ بیوی کو دیتا تھا تو اب دونوں میں طلاق ہو جانے کی وجہ سے مطلقہ اپنی رقم کے بجائے سونا مانگنے کا حق نہیں رکھتی،  بلکہ سائل نے اپنی مطلقہ سے  رقم   (3لاکھ 40 ہزار)لی تھی تو وہ رقم لوٹانے کا پابند ہے نہ کہ سونا،  لہذا اس کی مطلقہ کا اپنے سونے کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع  میں ہے:

"(وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحًا، أو أقرضه و شرط شرطًا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه «نهى عن قرض جر نفعًا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لايقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطةً في القرض."

(ج:7، ص:395، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144508102687
تاریخ10-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں