بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکوۃ کی رقم سے کتابوں کی نشرواشاعت کا حکم

سوال

زکوۃ کی رقم سے کتابوں کی نشر واشاعت کرنا کیسا ہے ؟

جواب

صورت مسئولہ میں زکوۃ کی رقم سے کتابوں کی نشر واشاعت کرنے سے زکوۃ کی ادائیگی نہیں ہوتی ،البتہ اگر زکوۃ کی رقم سے کتابوں کو چھاپ کرقیمت فروخت کے اعتبار سے   مستحقین افراد میں مالکانہ حقوق کے ساتھ تقسیم کردی جائیں تو زکوۃ اداء ہوجائےگی۔

فتاوی ھندیہ میں ہے :

"ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه."

(کتاب الزکوۃ ،الباب السابع فی المصارف ،ج:1،ص:188،ط:دالفکر)

فتاوی شامی میں ہے :

"ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه)."

(کتاب الزکوۃ ،باب المصارف ،ج:1،ص:137،ط:دارالکتب العلمیۃ )

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144508102667
تاریخ10-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں