بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رمضان میں روزے کی نیت کرنے کا طریقہ

سوال

رمضان میں روزے کی نیت کرنے کا کیا طریقہ ہے؟

جواب

واضح رہے رمضان میں روزے کی نیت کر نا ضروری ہے،نیت دل سے ارادہ کرنے کا نا م ہے،البتہ اگر زبان سے بھی نیت کے الفاظ کہہ لیے جائیں تو بہتر ہے،رمضان کے روزے کی نیت میں اتنا کہہ لینا بھی کافی ہےکہ"آج میرا روزہ ہے"      یا رات کو یہ نیت کر لےکہ "کل میرا روزہ  ہے"

رمضا ن کے روزے کی نیت یوں بھی کر سکتے ہیں! "وبصوم غد نويت من شهر رمضان."

تر جمہ:"اور میں کل کے رمضان کے روزے کی نیت کرتا ہوں۔"

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"(وشرط) صحة الأداء النية والطهارة عن الحيض والنفاس كذا في الكافي والنهاية."

(کتاب الصوم،ج1،ص195،ط:دار الفکر ۔بیروت)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"والنية معرفته بقلبه أن يصوم كذا في الخلاصة، ومحيط السرخسي. والسنة أن يتلفظ بها كذا في النهر الفائق. ثم عندنا لا بد من النية لكل يوم في رمضان كذا في فتاوى قاضي خان. والتسحر في رمضان نية ذكره نجم الدين النسفي."

(کتاب الصوم،ج1،ص195،ط:دار الفکر ۔بیروت)

درمختار مع رد المحتار میں ہے:

"والشرط فيها: أن يعلم بقلبه أي صوم يصومه. قال الحدادي: والسنة أن يتلفظ بها...(قوله: والسنة) أي سنة المشايخ لا النبي صلى الله عليه وسلم لعدم ورود النطق بها عنه ح (قوله: أن يتلفظ بها) فيقول: نويت أصوم غدا أو هذا اليوم إن نوى نهارا لله عز وجل من فرض رمضان سراج"

(کتا ب الصوم،ج2،ص380،ط:ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144508102663
تاریخ10-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں