بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رستےمیں چلتےہوئےعورت کواپنےساتھ رکھےیاپیچھے؟

سوال

رستے میں چلتے ہوئے بیوی شوہر کے برابر میں چل سکتی ہے یا پیچھے چلنا ضروری ہے؟

جواب

واضح رہےکہ  شریعت میں مردکواللہ تعالٰی نےعورت پرفضیلت دی ہےاوراس فضیلت کےپیشِ نظربہت سارےاحكامات مىں مردکومقدم رکھاجاتاہےاورچوں کہ شوہرکےاپنےبیوی پربہت سارےحقوق ہیں ان میں سےایک حق ادب کاہےکہ بیوی شوہرکاخوب ادب کرے،تواس ادب کاتقاضہ یہ ہےکہ عورت اپنےشوہرکےبرابربھی نہ چلے،بلکہ اپنےشوہرکےقدموں سےتھوڑاپیچھےرہےتاکہ شوہرکاادب ملحوظ رہے،لیکن زیادہ پیچھے نہ رہےکہ مرد اس کی حفاظت سےقاصرہوایساچلےجیسےشاگرداپنےاستادکےساتھ چلتاہے۔

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"لا ينبغي للشيخ الجاهل أن يتقدم على الشاب العالم في المشي والجلوس والكلام كذا في السراجية والشاب العالم يتقدم على الشيخ الغير العالم والعالم يتقدم على القرشي الغير العالم قال الزندويستي حق العالم على الجاهل وحق الأستاذ على التلميذ واحد على السواء وهو أن لا يفتتح بالكلام قبله ولا يجلس مكانه وإن غاب، ولا يرد على كلامه ‌ولا ‌يتقدم ‌عليه ‌في ‌مشيه۔۔۔۔۔ وحق الزوج على الزوجة أكثر من هذا وتطيعه على كل مباح يأمرها به وتقدم ماله عليها كذا في الوجيز للكردري"

(الباب الثلاثون في المتفرقات،ج:5،ص:373،ط:دارالفكربيروت)

فقط والله تعالى اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144508102644
تاریخ10-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں