بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کمرے کی دیواروں پر قرآنی آیات اور طغرے وغیرہ لٹکانا کیسا ہے؟

سوال

کیا کمرے کی دیواروں پر قرآن کی آیات ،طغرے وغیرہ لگا سکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ  دیواروں پر قرآنی  آیات لکھنا مکروہ ہے، اس لئے کہ اس میں بے ادبی کا احتمال ہوتا ہے کہ کبھی دیوار اکھڑ جائے یا تعمیر نو کی صورت میں اس کو  گرانا پڑے یا صفائی کرنے والے پاکی ناپاکی کا خیال کئے  بغیر یا وضو کے بغیر اس کی صفائی کریں وغیرہ،اس لئے فقہائے کرام نے اس طرح کرنے کو خلاف ادب اور مکروہ قرار دیا ہے، البتہ طغرے لٹکانا جائز ہے لیکن اس میں بھی اس بات کاخیال رہناچاہیےکہ بے ادبی نہ ہو ،اگر اس صورت میں بے ادبی ہوتی  ہو تو پھر ایسا کرنابھی مکروہ ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قلت: وظاهر انتفاء الكراهة بمجرد تعظيمه وحفظه علق أو لا، زين به أو لا، وهل ما يكتب على المراوح وجدر الجوامع كذا يحرر.

(قوله: يحرر) أقول: في فتح القدير: وتكره كتابة القرآن وأسماء الله تعالى على الدراهم والمحاريب والجدران وما يفرش. اهـ. والله تعالى أعلم".

(کتاب الطھارۃ، باب المیاہ، ج:1،ص:179،ط:دار الفكر،بيروت)

وفیه أیضًا:

(قوله: ولا ينبغي الكتابة على جدرانه) أي خوفا من أن تسقط وتوطأ بحر عن النهاية)

( کتاب الصلاۃ،‌‌باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها،ج:1،ص:663،ط:دارلفکر،بیروت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144508102535
تاریخ09-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں