بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کا دودھ پینے کا حکم

سوال

میں غلطی اور کوتاہی سے بیوی کا دودھ نگل چکا ہوں اب اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

 جان بوجھ کر بیوی کا دودھ پینا حرام ہے، اس لیے اس سے اجتناب ضروری ہے، اگر  کسی شخص نے  جان بوجھ کر اپنی بیوی کا دودھ پیا تو اسے اپنے اس عمل  پر توبہ اور استغفار کرنا  لازم ہے، لیکن اس سے اس کا نکاح نہیں ٹوٹتا۔آئندہ خوب احتیاط کریں غلطی و کوتاہی نہ ہونے پائے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(‌ولم ‌يبح ‌الإرضاع بعد موته) لأنه جزء آدمي والانتفاع به لغير ضرورة حرام على الصحيح شرح الوهبانية."

 (كتاب النكاح، ‌‌باب الرضاع، ج:3، ص:211، ط:سعيد)

درر الحكام شرح غرر الاحكام میں ہے:

"وقال في شرح المنظومة: الإرضاع بعد مدته حرام؛ لأنه جزء الآدمي والانتفاع به بغير ضرورة حرام على الصحيح."

(كتاب الرضاع، ما يحرم بالرضاع ، ج:1، ص:356،  ط:  دار إحياء الكتب العربية)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"مصّ رجل ثدي زوجته لم تحرم."

(كتاب النكاح، باب الرضاع ص:3، ص:225، ط:سعيد)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144508102312
تاریخ06-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں