بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

18 سالہ لڑکی کا اپنے والد اور بھائی کے سامنے سونے والا لباس پہننا

سوال

کیا 18 سال کی لڑکیا ں اپنے والد اور بھا ئی کے سامنے سونے والا لبا س پہن سکتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  عورت کے لیے اپنے محارم کے سامنے چہرہ، سر، گردن، سینے کے اوپر کا حصہ، ہتھیلی اور بازو، قدم اور پنڈلیوں کے علاوہ پورا جسم چھپانا لازم ہے،  لہٰذا اگر مذکورہ لباس لڑکی کے تمام مستورہ اعضاء کے لیے ساتر ہو،  تنگ اور چست بھی نہ ہو،  اتنا باریک  بھی نہ ہو کہ اس سے بدن  جھلکتا  ہو  ، اور مردوں  اور کفار کے مشابہ  بھی نہ ہو   تو  اپنے والد اور بھائی کے سامنے  ایسا لباس پہننے کی اجازت ہوگی۔ اور اگر  لباس جس میں پورا ستر چھپا نہ ہو یا اتنا باریک ہو کہ اس سے    بدن نظر آتا ہو یا مردوں کے مشابہ ہو  یا اتنا چست ہو کہ اس میں    مستورہ اعضاء کی ہیئت   وساخت واضح معلوم ہوتی ہو تو ایسے لباس میں  اپنے والد اور بھائی کے سامنےآنا شرعًا   جائز نہیں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144508102279
تاریخ06-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں