بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صفار نام رکھنا

سوال

صفار نام رکھنا کیسا ہے؟میں نے ایک کتاب جو "بحردموع "کا ترجمہ ہے اس میں پڑھا تھا کہ عمار اور صفار دونوں بھائی تھے اور صحابی رسولﷺ بھی تھے،تو برائے مہربانی اس کی وضاحت فرمائیں ،کہ کیا صفار بھی صحابی کا نام ہے یانہیں؟

جواب

تلاش کے  باوجودصفار نام کا کوئی صحابی  نہیں ملا ، البتہ صفار یوسف  بن یعقوبؒ کالقب  ہے اور یوسف بن یعقوب  الصفار  ؒبخاری ومسلم شریف کے راوی  ہیں،اور صفار کا معنی ہےپیتل کے برتن وغیرہ بنانے والا ،لہذا صفار نام رکھنا  درست ہے۔

معجم الوسیط میں ہے :

"(الصفار) صانع النحاس الأصفر".

(المعجم الوسيط ، باب الصاد ،516/1،ط:دار الدعوۃ)

بخاری شریف میں ہے :

" حدثنا ‌يوسف ‌بن ‌يعقوب ‌الصفار: حدثنا إسماعيل بن علية عن أيوب عن حميد بن هلال عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: «خطب النبي صلى الله عليه وسلم فقال: أخذ الراية زيد فأصيب ثم أخذها جعفر فأصيب ثم أخذها عبد الله بن رواحة فأصيب ثم أخذها خالد بن الوليد عن غير إمرة ففتح له وقال: ما يسرنا أنهم عندنا"

(باب تمنی الشھادۃ، 17/4،رقم الحدیث:2898،ط:باالمطبعۃ الکبری الامیریۃ)

مسلم شریف میں ہے :

"حدثنا ‌يوسف ‌بن ‌يعقوب ‌الصفار ، حدثني علي بن عثام ، عن سعير بن الخمس ، عن مغيرة ، عن إبراهيم ، عن علقمة ، عن عبد الله قال: « سئل النبي صلى الله عليه وسلم عن الوسوسة قال: تلك محض الإيمان"

(باب بيان الوسوسة في الايمان ،83/1،رقم الحدیث:133،ط: دار الطباعۃالعامرۃ)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144508102228
تاریخ06-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں