بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میت کی بیوہ، چار بیٹیوں اور ایک بھائی میں وراثت کی تقسیم

سوال

عبداللہ کی وفات کے بعد ورثاء میں اس کی بیوہ، چار بیٹیاں اور ایک بھائی ہے، پانچ ایکڑ رقبہ کی تقسیم کیسے کی جاۓگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا طریقہ یہ ہےکہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات ادا کرنے کے بعد ، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہوتو کل مال سے اس قرض کو ادا کرنے کے بعد، اگر  مرحوم نے کوئی جائز  وصیت کی ہو تو کل مال کے ایک تہائی حصہ میں سے اسے نافذ کرنے کے بعد باقی تمام ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو 24 حصو ں میں تقسیم کرکے مرحوم کی بیوہ کو 3 حصے، ہر ایک بیٹی کو 4-4حصے اور بھائی کو 5 حصے ملیں گے۔

صورتِ تقسیم یہ ہوگی:

میت(مرحوم)۔ مسئلہ : 24

بیوہ بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بھائی
3 4 4 4 4 5

یعنی فیصد کے اعتبار سے 12.5 فیصد مرحوم کی بیوہ کو،  16.666 فیصد مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو اور 20.833 فیصد مرحوم کے بھائی کو ملیں گے۔

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144508102184
تاریخ06-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں