بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے میں آنکھوں میں قطرے ڈالنا

سوال

کیا روزے کی حالت میں آنکھوں میں ،آنکھوں کے قطرے ڈالنے سے روزہ پر کوئی اثر پڑتا ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں روزے کی حالت میں ضرورت کے وقت آنکھوں میں دوا (قطرے) ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا اگرچہ اس کا ذائقہ اور اثر حلق میں محسوس ہو۔

فتاوی ھندیہ میں ہے:

"لو أقطر شیئاً من الدواء في عینہٖ لایفطر صومہ عندنا، وإن وجد طعمہ في حلقہ."

(الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۲۰۳)

بدائع الصنائع میں ہے:

" ولو اکتحل الصَّائم لم یفسد وإن وجد طعمہ في حلقہ عند عامّة العلماء․․․ ولنا ماروي عن عبد اللہ بن مسعود أنّہ قال: خرج علینا رسول اللہ -صلی اللہ علیہ وسلم- في رمضان وعیناہ مملوء تان کُحلاً کحلتہما أمّ سلمة، ولأنّہ لا منفذ من العین إلی الجوف ولا إلی الدماغ وما وجد من طعمہ فذاک أثر لا عینہ وأنّہ لا یفسد کالغبار والدخان وکذا لو ادہن رأسہ أو أعضاء ہ فتشرّب فیہ أنّہ لا یضرّہ؛ لأنّہ وصل إلیہ الأثر لا العین الخ."

   (بدائع الصنائع: ۲/۲۴۴،ط: زکریا)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144508102060
تاریخ05-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں