بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والد کے ساتھ کاروبار میں ہاتھ بٹانے کا حکم

سوال

میں اپنے والد صاحب کے ساتھ ان کے کاروبار میں محنت اور کوشش کر تا ہوں تو اب اس کاروبار میں میری کیا حیثیت ہے؟

جواب

اگر والد سے شرکت یا ملازمت کا کوئی معاہدہ نہ ہوا ہو تو سائل کا اپنے والد کے کاروبار میں محنت اور کوشش کرنا والد کے ساتھ تبرع اور احسان ہے، سائل کی حیثیت والد کے کاروبار میں معاون کی ہے۔ لہذا سارا نفع والد  کا ہوگا ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"لما في القنية الأب وابنه يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء فالكسب كله للأب إن كان الابن في عياله لكونه معينا له ألا ترى لو غرس شجرة تكون للأب"

(کتاب الشرکۃ،فصل فی الشرکۃ الفاسدۃ،ج:4،ص:325،ط:سعید)

فقط وللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144508101977
تاریخ04-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں