بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خوشی کے موقع پر پھولوں کا ہار پہننے یا پہنانے کا حکم

سوال

خوشی کے موقع پر پھولوں کا ہار   پہننا یا پہنانا کیسا ہے؟

جواب

فضول خرچی اور اسراف سے بچتے ہوئے خوشی کے موقع پر ہار پہنانا جائز ہے، تاہم اس کو لازمی نہ سمجھاجائے۔

معارف السنن میں ہے:

"والبدعة مالم يکن لها أصل فی الکتاب والسنة والاجماع والقياس،ثمّ ترتکب علی قصد انها قربة وما لم يقصد بها القربة لا تسمّی بدعة،فالامور الرّائجةفی العرس وحفلات الفرح وعقود النکاح علی خلاف السنة لا تسمّی بدعة،فانها ليست علی قصد القربة،نعم انها أمور إذا کان فيها صرف ولغو فتمنع من جهة أخری."

(باب ماجاء في القراءة باليل، ج:4، ص:160، ط:سعيد)

فقط واللہ اَعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144508101863
تاریخ02-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں