بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رمضان المبارک کے مہینے میں ہوٹل کھولنا

سوال

رمضان المبارک کے مہینے میں مسافروں کے لئے ہوٹل کھولنا کیسا ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں روزہ شعائر اللہ میں سے ہے اور شعائر اللہ کی تعظیم و احترام تمام مسلمانوں پر واجب ہے، لہذا رمضان المبارک کے احترام کی خاطر دن کے وقت ہوٹل بند رکھنا ضروری ہے، تاکہ اس مبارک ماہ کی عظمت باقی رہے البتہ اگر ہوٹل مسافروں کی آمد و رفت کے راستہ پر ہو، شہر اور شہر کی حدود میں نہ ہو تو مسافروں کے راستوں میں  صرف مسافروں کی غرض سے ہوٹل کھولا جائے اور کھانا بھی صرف مسافروں کو فراہم کیا جائے اور اس مسافروں کے نام سے عام لوگوں کو کھانا کھلا کر آمدنی مقصد نہ ہو تو پھر ان شرائط کے ساتھ  اجازت ہوگی۔اس سلسلے میں حکومت وقت کی طرف سے احترام رمضان کے نام سے کوئی قانون نافذ ہو تو اس کی شرعی پہلوؤں کی رعایت بھی ضروری ہے۔

قرآن مجيد الله رب العزت كا ارشاد مبارك هے:

ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ۔ (الحج: 32)

فتاوی شامی میں ہے:

"ولو ‌أكل ‌عمدا شهرة بلا عذر يقتل، وتمامه في شرح الوهبانية۔ قال ابن عابدين: قال الشرنبلالي صورتها: تعمد من لا عذر له الأكل جهارا يقتل؛ لأنه مستهزئ بالدين أو منكر لما ثبت منه بالضرورة ولا خلاف في حل قتله والأمر به."

(‌‌كتاب الصوم‌‌، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده: 2/ 413- 414، ط: سعيد)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144508101783
تاریخ02-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں