بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کا بیوی کو اپنے ادارے میں بغیر تنخواہ کے رکھنا

سوال

کیا شوہر اپنی بیوی کو اپنے ادارے میں بغیر تنخواہ کے رکھ سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ شوہر کا اپنی بیوی سے اس کی رضا مندی کے بغیر نوکری کروانا جائز نہیں ۔البتہ اگر بیوی سے کام کرانے کی شدید ضرورت ہو ،تو پردے  کے اہتمام کے ساتھ کام کرنے کی گنجائش ہے۔ باقی بیوی اگربغیر تنخواہ کے کام کرنے پر راضی نہ ہو تو شوہر اس سے زبردستی بغیر تنخواہ کے کام نہیں  کرواسکتا،اس کی اجرت ادا کرنا لازم ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

’’والذی ینبغی تحریرہ، ان یکون له منعھا عن کل عمل یؤدی الی تنقیص حقه، او ضررہ، او الی خروجها عن بیته۔‘‘

(کتاب النکاح،باب النفقہ،ج:3،ص:600،ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

’’ امتنعت المرأة من الطحن والخبز، إن کانت ممن لاتخدم أو کان بہا علة فعلیہ أن یأتیہا بطعام مہیأ؛ وإلا فإن کانت ممن تخدم نفسہا وتقدر علی ذلک لایجب علیہ۔‘‘

(باب النفقہ،ج:3،ص:579،ط:سعید)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144508101688
تاریخ29-02-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں