بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرآن مجید پرہاتھ رکھ کر قرآن کو گواہ بنانا قسم نہیں ہے

سوال

چند مہینہ پہلے میں نےقرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا کہ "میں قرآن مجید کو گواہ بناتا ہوں کہ فلاں کام نہیں کروں گا" لیکن بعد میں وہ کام ہو گیا ،میرا مقصد قسم سے بچنا تھا ،تو کیا میری قسم ہوگی؟

جواب

محض قرآن پر ہاتھ رکھنے سے قسم منعقد نہیں ہوتی جب تک کے قسم کھانے والا زبان سے قسم کے الفاظ ادا نہ کرے کہ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں یا میں قرآن کی قسم کھاتاہوں  کہ فلاں کام نہیں کروں گا، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل نے قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر جو الفاظ ادا  کیے تھے ، ان میں الفاظِ قسم ادا نہیں کیے ہیں تو ان الفاظ سے قسم منعقد نہیں ہوئی ہے، لہذا اس کے خلاف کرنے پر کفارہ بھی لازم نہیں ہے، البتہ اس طرح قرآن پر ہا تھ رکھ کر فلاں کام نہ کرنے کا عہد کیا تھا جو کہ پورا نہ کر سکا اس کا گناہ سائل پر ہوگا، اس پر اللہ کے حضور توبہ و استغفار کرے۔

الدر المختار میں ہے:

"وركنها اللفظ المستعمل فيها."

(رد المحتار، کتاب الأیمان، ج:3، ص:704، ط:سعید)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"(وأما ركن اليمين بالله) فذكر اسم الله، أو صفته، وأما ركن اليمين بغيره فذكر شرط صالح، وجزاء صالح كذا في الكافي."

‌‌(كتاب الأيمان، الباب الأول في تفسير الأيمان شرعا وركنها وشرطها وحكمها، ج: 2، ص: 51، ط: رشيديه)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

"محض قرآن مجید ہاتھ میں لے کربات کہنے سے قسم نہیں ہوجاتی،جب تک لفظِ قسم نہ کہے۔"

(ج:14،ص:42،ط:دار الافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی)

امداد الاحکام میں ایک سوال کے جواب میں ہے:

"محض قرآن سر پر رکھنا جب تک لفظ قسم زبان سے نہ کہے قسم نہیں۔"

(کتاب الایمان، ج:3، ص:40، ط:مکتبہ دار العلوم)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144508101580
تاریخ28-02-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں