بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قادیانیوں کی کمپنی میں ملازمت کرنے کا حکم

سوال

کیا قادیانیوں کی کمپنی میں ملازمت کرنا جائز ہے؟

جواب

 قادیانیوں/مرزائیوں   کے ساتھ خریدوفروخت، تجارت، لین دین، سلام و کلام،  ملنا جلنا، کھانا پینا، شادی و غمی میں شرکت، ان کی تجہیز و تکفین میں یا  نماز جنازہ اور تدفین وغیرہ میں شرکت، تعزیت، عیادت، ان کے ساتھ تعاون یاملازمت سب شریعتِ اسلامیہ میں جائز نہیں، لہٰذا کسی بھی مسلمان کے لیے کسی قادیانی کی کمپنی میں  ملازمت کرنا   جائز نہیں ہے۔

اکفارالملحدین میں ہے:

"وثانیها إجماع الأمة علی تکفیر من خالف الدین المعلوم بالضرورة."

(مجموعة رسائل الکاشمیری،ج:3،ص:81،ط:ادارة القرآن)

 کفا یت  المفتی میں ہے:

’’اگر دین کو فتنے سے محفوظ رکھناچاہتے ہو تو(قادیانیوں سے ) قطع تعلق کرلینا چاہیے، ان سے رشتہ ناتا کرنا، ان کے ساتھ خلط ملط رکھنا، جس کا دین اورعقائد پر اثر پڑے ناجائز ہے۔‘‘

(ج:1، ص:365،ط: دارالاشاعت)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144508101548
تاریخ28-02-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں