مُزنِ نام رکھنا شرعا کیسا ہے؟
سوال
کیا بیٹی کانام مُزنِ رکھناصحیح ہے؟جوسورۃالواقعۃ،آیت نمبر69میں ہے،جس کا مطلب ہے"بارش برسانے والا بادل"۔
جواب
مزن (’’م ‘‘ پر پیش ،’’ز‘‘ پر جزم )جمع ہے ،اس کا مفرد مزنۃ ہے،جس کا معنی ہے: پانی سے بھرا ہوا بادل یاوہ سفید بادل جس کا پانی بہت میٹھا ہوتاہے۔
بیٹی کا نام "مزن"رکھنا شرعا درست ہے، البتہ اگرصحابیات یا نیک خواتین کے نام پر نام رکھاجائے تو بہتر ہے۔
تفسیرمظہری میں ہے:
"أأنتم أنزلتموه من المزن من السحاب واحده مزنة قيل المزن السحاب الأبيض ماءه أعذب."
(سورۃ الواقعة،الاية:69،ج:9،ص:179،ط:مکتبۃ رشیدیہ، باکستان)
القاموس الوحید میں ہے:
’’المزن :پانی سے بھرے ہوئے بادل ۔واحد:مزنۃ:ایک دفعہ کی بارش۔‘‘
(مادۃ:م.ز.ن،ص:1229،ط:ادارہ اسلامیہ لاہور/کراچی)
فقط۔واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

