بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ کی رقم سے گھوڑا خرید کر خود استعمال کرنا

سوال

مفتیان کرام عرض یہ ہے کہ کیا ایک شخص اپنے مالِ زکوۃ کے عوض گھوڑا خرید کر خود اس کو جہاد میں استعمال کر سکتا ہے ۔یعنی زکوۃ ادا ہو جائے گی؟

جواب

زکاۃ  کی ادائیگی کے لیے مستحقِ زکاۃ  کو مالک بنانا شرعاً ضروری ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں زکاۃ کی رقم سے گھوڑا خرید کر اپنے استعمال میں لانے سے زکاۃ ادا نہیں ہوگی۔ 

بدائع  الصنائع میں ہے:

"وأما ركن الزكاة فركن الزكاة هو إخراج جزء من النصاب إلى الله تعالى، وتسليم ذلك إليه يقطع المالك يده عنه بتمليكه من الفقير وتسليمه إليه أو إلى يد من هو نائب عنه، وكذا لو دفع زكاة ماله إلى صبي فقير أو مجنون فقير وقبض له وليه أبوه أو جده أو وصيهما جاز؛ لأن الولي يملك قبض الصدقة عنه."

 ( کتاب الزکاۃ، فصل: رکن الزکاۃ،2 / 39، ط: دار الکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144508101033
تاریخ24-02-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں