بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مغرب سے پہلے نہانے کا حکم

سوال

کسی بھی دن مغرب سے پہلے نہانا چاہیے یا نہیں؟

جواب

نہانے کے لیے شریعت میں کوئی خاص وقت مقرر نہیں ہے اور نہ ہی کوئی وقت ایسا ہے جس میں نہانا منع ہو،لہٰذا کسی بھی دن میں مغرب سے پہلے نہانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

البتہ  ڈاکٹروں سے بھی معلوم کرے کہ سائل کے مزاج کے اعتبار سے عصر کے بعد مغرب سے پہلے غسل کرنا مناسب ہے یا نہیں؟

مجمع الزوائد میں ہے:

"عن أنس بن مالك أنه كان يكره أن يغتسل بنصف ‌النهار وعند العتمة. رواه الطبراني في الكبير. ورائطة أم ولد أنس لا تعرف."

(مجمع الزوائد، کتاب الطہارۃ،  باب الغسل من الجنابة، ج:1، ص:270، ط:مكتبة القدسي)

شمائل کبری میں ہے:

"حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے منقول ہے کہ وہ عین دوپہر کو اور عشاء کے وقت نصف رات سے قبل غسل کرنے کو پسند نہیں کرتے تھے۔

عین دوپہر کو اور رات کے شروع میں غسل کرنا بعض مزاج والوں کو نقصان پہنچاتا ہے، خصوصا گرمی کا زمانہ نہ ہو، تو اور زیادہ مضر ہوتا ہے۔"

(شمائل کبری، ج:6، ص:606، ط:زمزم پبلشرز)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144508100949
تاریخ22-02-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں