بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کا نکاح میں پہل کرنا

سوال

کیا عورت مرد سے پہلے ایجاب کر سکتی ہے؟  کہ میں نے   اتنے حق مہر کے عوض تم سے اپنا نکاح کیا،  کیا تمہیں قبول ہے؟

جواب

 عورت کے لیےبھی  جائزہے کہ وہ  مرد سے  دو گواہو ں کی موجودگی میں ایجاب کرے، چنانچہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک صحابیہ نےرسول اللہ    صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آنے کی پیشکش کی تھی ۔

حدیث شریف میں ہے: 

"عن سهل بن سعد الساعدى أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- جاءته امرأة فقالت يا رسول الله إنى قد وهبت نفسى لك." (الحديث)

(سنن أبي داود مع تعليقات الشيخ عزت عبيد الدعاس، باب في التزويج علي العمل بعمل، حديث 2111، ج:2 ص405، ط: دار بن حزم)

بدائع الصنائع میں ہے:

"صفة الإيجاب والقبول فهي: أن لا يكون أحدهما لازما قبل وجود الآخر، حتّى لو وجد الإيجاب من أحد المتعاقدين كان له أن يرجع قبل قبول الآخر، كما في البيع؛ لأنّهُما جميعا ركن واحد."

( بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،دار الكتب العلمية، الطبعة الثانية، 1406هـ - 1986م. ج:2 ص:232)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(وأما ركنه) فالإيجاب والقبول، كذا في الكافي والإيجاب ما يتلفظ به أولا من أي جانب كان والقبول جوابه هكذا في العناية."

(فتاوى هنديه، دار الفكر،الطبعة الثانية 1310 ه، ج1 ص267.)

فتاوی قاضیخان میں ہے:

"ينعقد بلفظ النكاح والتزويج كان على وجه الخبر عن الماضي نحو أن تقول المرأة زوجت نفسي منك بكذا بمحضر من الشهود فيقول الرجل قبلت."

(فتاوی قاضیخان، کتاب النکاح، ج1 ص151 ط: بلوچستان بک ڈپو کوئٹہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144508100873
تاریخ21-02-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں