بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مياں بیوی کسی ایک کی وفات کے بعد میاں بیوی کا ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنا جائز ہے

سوال

اگر شوہر کی وفات ہو جائےتو کیا بیوی اس کا چہرہ دیکھ سکتی ہے؟ اور اگر بیوی کی وفات ہوجائے تو کیا شوہر اس کا منہ دیکھ سکتا ہے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ شوہر کے انتقال کے بعد بیوی کے لیے شوہر کا چہرہ دیکھنا اور بیوی کے انتقال کے بعد شوہر کے لیے بیوی کا چہرہ دیکھنا بلاتردّد جائز ہے، تاہم شوہر کےلیے اپنی بیوی کے چہرے یا جسم کے کسی بھی حصّے کو چُھونا جائز نہیں۔

فتاوی محمودیہ میں ایک سوال کے جواب میں لکھا ہے:

’’انتقال سے نکاح ختم ہوجاتا ہے، ہاتھ نہیں لگا سکتا، البتہ دیکھنا درست ہے‘‘۔

(باب الجنائز، ج:9، ص:63، ط:ادارۃ الفاروق) 

فتاوی شامی میں ہے:

"(‌ويمنع ‌زوجها ‌من ‌غسلها ومسها لا من النظر إليها على الأصح) منية...ولعل وجهه أن النظر أخف من المس فجاز لشبهة الاختلاف والله أعلم.

وفی الرد:أشار إلى ما في البحر من أن من شرط الغاسل أن يحل له النظر إلى المغسول فلا يغسل الرجل المرأة وبالعكس".

 

(کتاب الصلاۃ، باب صلاة الجنازة، ج:2، ص:198، ط:سعيد)

بدائع الصنائع میں ہے:

"‌إذا ‌ماتت ‌المرأة حيث لا يغسلها الزوج؛ لأن هناك انتهى ملك النكاح لانعدام المحل، فصار الزوج أجنبيا".

 

(كتاب الصلاة، فصل بيان الكلام فيمن يغسل، ج:1، ص:304، ط:دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144508100630
تاریخ19-02-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں