بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

’’شاہ زیم‘‘ نام رکھنا کیسا ہے؟

سوال

’’شاہ زیم‘‘ نام کا کیا مطلب ہے؟

جواب

’’شاہ‘‘ فارسی زبان میں بادشاہ کو کہا جاتا ہے، جب کہ ’’زیم‘‘ کا معنیٰ تلاشِ وتتبعِ بسیار کے بعد بھی فارسی یا اردو زبان میں ہمیں نہ مل سکا، البتہ ’’زیم‘‘ کا لفظ عربی زبان میں ’’غارت گری‘‘ کے لیے استعمال ہوتا ہے، اگر بالفرض شاہ (فارسی لفظ) کے ساتھ زیم (عربی لفظ) کو لگابھی لیا جائے، تو اس کا معنیٰ ’’غارت گری اور دہشت گردی کا بادشاہ‘‘ ہوگا۔

بہر صورت یہ نام رکھنا درست نہیں ہے، اس کے بجائے بہتر یہ ہے کہ بچوں کے نام انبیاء کرام، صحابہ کرام اور بزرگانِ دین، اولیاء اللہ کے ناموں پر رکھے جائیں، تاکہ ان پاکیزہ نفوس کے اثرات بچوں کی زندگیوں میں ظاہر ہوں۔

تاج العروس من جواهر القاموس   میں ہے:

"(و) الزيم: (الغارة)."

(ص:٣٤٥،ج:٣٢،فصل الزاي مع الميم، زيم، ط: دار إحياء التراث)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144508100249
تاریخ14-02-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں