بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق كی نیت سے لفظِ طلاق لکھنا

سوال

اگر کسی نے لفظ طلاق لکھا اور نیت طلاق کی تھی تو طلاق واقع ہوگی ؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر صرف لفظ ’’طلاق‘‘ لکھا، آگے پیچھے نام وغیرہ کچھ نہیں لکھا، اور لکھ کر بیوی کو نہیں دیا تو لکھتے وقت اپنی بیوی کو طلاق دینے کی نیت ہو نے کی صورت میں بیوی پر  واقع ہوجائے گی۔

فتاوى ہندیہ میں ہے:

"وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق يقع وإلا فلا وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة."

(کتاب الطلاق، الفصل السادس فی الطلاق بالکتابۃ، ج:1، ص:446، ط:رشیدیہ)

بدائع الصنائع ميں هے:

"وأما النوع الثاني فهو أن ‌يكتب ‌على ‌قرطاس أو لوح أو أرض أو حائط كتابة مستبينة لكن لا على وجه المخاطبة امرأته طالق فيسأل عن نيته؛ فإن قال: نويت به الطلاق وقع، وإن قال: لم أنو به الطلاق صدق في القضاء."

(ج:3، ص:109، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144508100119
تاریخ12-02-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں