بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام کے لیے تحمید (ربنا لک الحمد) کہنے کا حکم

سوال

 کیا امام کو ’’سمع اللہ لمن حمدہ‘‘ کے بعد ’’ربنا لک الحمد‘‘ بھی پڑھنا ہوتا ہے ؟یا ربنا لک الحمد صرف مقتدی کہتا ہے؟

جواب

امام کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ صرف ’’سمع الله لمن حمده‘‘ پڑھے اور مقتدی ’’ ربنا لک الحمد ‘‘پڑھیں گے، البتہ اگر امام  بھی ’’ربنا لک الحمد‘‘پڑھ لے تو اس سے نماز میں کوئی خرابی نہیں آئے گی۔ 

فتاوی عالمگیری میں ہے :

'' فإن كان إماماً يقول: سمع الله لمن حمده بالإجماع، وإن كان مقتدياً يأتي بالتحميد ولا يأتي بالتسميع بلا خلاف، وإن كان منفرداً الأصح أنه يأتي بهما. كذا في المحيط۔ وعليه الاعتماد. كذا في التتارخانية وهو الأصح."

(کتاب الصلوۃ،الباب الرابع في صفة الصلاة،الفصل الثالث في سنن الصلاة وآدابها وكيفيتها،ج:1،ص:74،ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144508100065
تاریخ12-02-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں