بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کرائے کی گاڑی پر زکوۃ

سوال

 میں نے قسطوں پر گاڑی خریدی، ایک کروڑ  65 لاکھ کی  اور ایڈوانس  اور قسطوں  کی مد  میں 36 لاکھ روپے دے دئے۔ 

جمع کردہ  36 لاکھ  روپے میں  زکوۃ ادا کرنا لازم ہے یا نہیں؟ یا موجودہ قیمت پر زکوۃ لازم ہے؟ یہ گاڑی میں نے کرائے پر دی ہے۔ ذاتی استعمال میں نہیں ۔

جواب

صورتِ  مسئولہ  میں آپ کی  کرائے پر دی ہوئی گاڑی کی مالیت پر زکات واجب نہیں ہوگی،  کیوں کہ گاڑی وغیرہ میں زکات واجب ہونے کے لیے تجارت (نفع کے حصول کے لیے آگے بچنے) کی نیت سے خریدنا شرط ہے، البتہ مذکورہ گاڑی  سے کرائے وغیرہ کی مد میں حاصل ہونے والی آمدنی (رقم)  اگر محفوظ رہے۔ خرچ نہ ہوئی ہو اور آمدنی کی یہ رقم اگر تنہا یادیگر اموال کے ساتھ مل کر نصاب کو پہنچ جائے، تو سالانہ ڈھائی فیصد زکات کی ادائیگی واجب ہوگی۔ اگر آپ پہلے سے صاحبِ نصاب ہوں تو  دیگر اموال کی زکات کی ادائیگی کے وقت اس رقم کی زکات ادا کرنا بھی لازم ہوگا، ورنہ جس وقت صاحبِ نصاب بنے ہوں اس وقت سےقمری مہینوں کے اعتبار سے سال پورا ہونے  پر جتنی رقم موجود ہو، اس وقت تک واجب الادا اخراجات  اور  قرض  جو اس گاڑی سے متعلق ہو یا اس کے علاوہ  ہو ،منہا کرکے ، زکات کی ادائیگی لازم ہوگی۔

الفتاوى الهنديةمیں ہے:

"الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنةً ما كانت إذا بلغت قيمتها نصاباً من الورق والذهب، كذا في الهداية. ويقوم بالمضروبة، كذا في التبيين۔ وتعتبر القيمة عند حولان الحول بعد أن تكون قيمتها في ابتداء الحول مائتي درهم من الدراهم الغالب عليها الفضة، كذا في المضمرات."

وفیه أیضاً:

"و من کان له نصاب فاستفاد فی أثناء الحول مالاً من جنسه، ضمه إلی ماله وزکاه سواء کان المستفاد من نمائه أولا، وبأي وجه استفاد ضمه ... " الخ

(هندیة، کتاب الزکاة ۱/۱۷۵ ط رشیدیة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144508100051
تاریخ12-02-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں