بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وراثت موت کے بعد تقسیم ہوتی ہے

سوال

اگر کوئی شخص اپنے بیٹوں کو وراثت دیے بغیر مرجائے تو مرنے والے کے بیٹے کے بیٹے  کے لیے کیا حکم ہے؟

جواب

کسی شخص کی  وراثت اس کے مرنے کے بعد ہی تقسیم ہوتی ہے،اور مورث کی  وفات کے وقت جس قدر شرعی ورثاء   موجود ہوں ان میں وراثت تقسیم ہوگی،نیز ملحوظ رہے کہ بیٹوں کی موجودگی میں پوتے محروم ہوتے ہیں،باقی  ترکہ میں ورثاء کے حصے معلوم کرنے کے لیے، مورث کے انتقال کے وقت موجود ورثاء کی تفصیل بتاکر  کسی مستند   دارالافتاء کی طرف رجوع کرسکتے ہیں۔

حاشية ابن عابدين  میں ہے  :

"وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه."

(کتاب الفرائض،ج:6،ص:758، ط: سعید)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144508100035
تاریخ11-02-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں