بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رضاعت کی مقدار کتنی ہے ؟

سوال

رضاعت کی مقدار کتنی ہے ؟

جواب

رضاعت کی مدت میں دودھ پلانے سے رضاعت ثابت ہوجاتی ہے، اس کے لیے کوئی مقدار متعین نہیں ہے، لہذا اگر ایک دفعہ دودھ پلایاگیا اور ذراسا بھی دودھ بچے کے حلق میں چلا گیا، تورضاعت ثابت ہو جائے گی۔مدت رضاعت میں بچہ نے  ایک قطرہ ہی پیا ہو، خواہ بچہ نے خود پیا ہو، یا اس کے حلق میں ٹپکایا گیاہو یا کسی اور طریقہ سے اس کے معدے تک پہنچایا گیا ہواس سے  حرمت رضاعت ثابت ہوجاتی ہے۔

فتح القدیر میں ہے:

"قال (قليل الرضاع وكثيره سواء إذا حصل في مدة الرضاع تعلق به التحريم) وفي الشرع: مص الرضيع اللبن من ثدي الآدمية في وقت مخصوصأي مدة الرضاع المختلف في تقديرها (قوله قليل الرضاع وكثيره سواء إذا تحقق في مدة الرضاع تعلق به التحريم)."

(كتاب الرضاع، 438/3 ،ط: دار الفكر)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"قليل الرضاع وكثيره إذا حصل في مدة الرضاع تعلق به التحريم كذا في الهداية. قال في الينابيع: والقليل مفسر بما يعلم أنه وصل إلى الجوف كذا في السراج الوهاج."

(كتاب الرضاع، 342/1 ط: دار الفكر )

 فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507102200
تاریخ09-02-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں