بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بریلوی امام کے پیچھے پڑھی گئی نماز کا حکم

سوال

میں نے بریلوی مسجد میں بریلویوں کے پیچھے نماز پڑھی تو  کیا یہ نماز مجھے دوبارہ پڑھنی پڑے گی یا نماز اد اہو گئی ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل نے جس امام کے پیچھے نماز پڑھی ہے اگر وہ بھی بریلویوں کی طرح اہلِ سنت و الجماعت سے ہٹ کر مخصوص عقائد رکھتا ہو اور ان  عقائد میں تاویل بھی کرتا ہو   تو اس کے پیچھے سائل کی نماز کراہت کے ساتھ ادا ہو گئی، واپس لوٹانے کی ضرورت نہیں ہے، البتہ آئندہ کے لیے ایسا نہ کرے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و يكره) ... (إمامة عبد) ... (و مبتدع) أي صاحب بدعة ... (لايكفر بها) ... لكونه عن تأويل ... (قوله: لكونه عن تأويل إلخ) علة لقوله: لايكفر بها".

(كتاب الصلاة، باب الإمامة، 560/1، ط: سعيد)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507102194
تاریخ09-02-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں