بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ڈیجیٹل کرنسی میں انویسٹمنٹ کا حکم

سوال

کیا میں کسی پرائیویٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کی مد میں پیسے لگاسکتا ہو جو مجھے  مہینے کامنافع دے رہا ہو  جو کراچی میں واقع ہے؟ جس کا نام ڈیجیٹل کرنسی انویسٹمنٹ ہے ،برائے مہربانی میرے راہ نمائی کریں ۔

جواب

ڈیجیٹل کرنسی میں ہاتھ در ہاتھ قبضہ نہیں ہوتا اور وہ مادّی چیز بھی نہیں بل کہ کمپیوٹر میں ایک حساب و کتاب ہے ؛ اس لیے اس کی خریدوفروخت  کرنانیز  اس کے ذریعہ کاروبار کرنا جائز نہیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507102187
تاریخ07-02-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں