بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 جُمادى الأولى 1448ھ 22 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رمضان کے آخری جمعہ کو نماز قضاء کرنے کا حکم

سوال

رمضان کے آخری جمعہ میں قضا نماز ادا ہو جائے گی؟

جواب

نماز قضاء کرنے کے لیے کوئی دن مخصوص نہیں ہے، بلکہ جس دن بھی نماز قضاء کی جائے وہ درست ہوجائے گی۔

باقی اگر آپ کی اس سوال سے مراد یہ ہے کہ رمضان کے آخری جمعہ کو ایک مخصوص طریقے سے نماز قضاء کرنے کی صورت میں عمر بھر کی نمازوں کی قضاء ہوجاتی ہے، تو یہ طریقہ بالکل غلط ہے، شریعت میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے،  شرعی حکم یہ ہے کہ   جتنی نمازیں کسی سے  فوت ہوئی ہوں، اتنی ہی نمازیں لوٹانا ضروری ہے، اس کے بغیر بری الذمہ نہیں ہوں گے۔

الاسرار المرفوعہ فی الاخبار الموضوعہ میں ہے:

"حديث

من قضى صلاة من الفرائض في آخر جمعة من شهر رمضان كان ذلك جابرا لكل صلاة فائتة في عمره إلى سبعين سنة.

باطل قطعا لأنه مناقض للإجماع ‌على ‌أن ‌شيئا ‌من ‌العبادات لا يقوم مقام فائتة سنوات."

(الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة، حديث:519، ص:356، ط: دار الأمانة)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507102155
تاریخ05-02-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں