بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ذکر کے لیے باوضو ہونا شرط نہیں

سوال

 کیاہم اپنے اوراد ،وظائف، تسبیح بغیر وضو کے پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

اوراد،وظائف اور تسبیحات کے لیے باوضو ہونا شرط نہیں،بغیر وضو کے بھی ذکرو اذکار کرسکتے ہیں،البتہ باوضو ذکر کرنا افضل ہے۔

الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:

"(ولا بأس) لحائض وجنب (بقراءة أدعية ومسها وحملها وذكر الله تعالى، وتسبيح)

(قوله ولا بأس) يشير إلى أن وضوء الجنب لهذه الأشياء مستحب كوضوء المحدث وقد تقدم ح أي لأن ما لا بأس فيه يستحب خلافه."

(باب الحیض،ج1،ص293،ط؛سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507102081
تاریخ04-02-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں