بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دفتر کے فارغ اوقات میں تلاوت کا حکم

سوال

میں دفتری اوقات کے فارغ وقت میں قران مجید کی تلاوت کرتا ہوں اور ہمارے تین مالکان میں سے دو کو اس بات کا پتہ ہے، کیا دفتری اوقات میں اس طرح تلاوت کرنا جائز ہے، کیا یہ تلاوت میرے لیے وبال تو نہیں بنے گی؟

جواب

واضح رہے کہ کسی بھی ادارے کے ملازمین کی حیثیت شرعی طور پر اجیرِ خاص کی ہوتی ہے اور اجیر خاص کا حکم یہ ہے کہ وہ  ملازمت کے اوقات میں (فرض واجب اور سنتِ مؤکدہ نمازوں کی ادائیگی اور طبعی حاجت کے علاوہ) دوسرا کوئی کام نہیں کرسکتا؛ لہذا آفس کے اوقات میں قرآن مجید کی تلاوت کرنا شرعاً درست نہیں، البتہ اگر  مالک  کی  طرف سے اس کی اجازت ہو، یامالکان  کو پتہ ہو اور دفتری کام نہ ہونے کی وجہ سے  وہ منع نہ کرتے ہوں اور اس سےدفتری کام  متاثر نہ ہوتا  ہو تو  ملازمت کے اوقات میں تلاوت کرنے کی اجازت ہو گی۔

     فتاوی شامی میں ہے:

(قوله: و ليس للخاص أن يعمل لغيره) بل و لا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي و إذا استأجر رجلاً يوماً يعمل كذا، فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة و لايشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة، و في فتاوى سمرقند: و قد قال بعض مشايخنا: له أن يؤدي السنة أيضاً. و اتفقوا أنه لايؤدي نفلاً، و عليه الفتوى".

(  کتاب الاجارۃ،ج: ۶، صفحہ: ۷۰،  ط:ایچ، ایم، سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507102063
تاریخ04-02-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں