بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عدت کے دوران تعزیت کے لیے گھر سے نکلنا

سوال

عورت کا عدت کے دوران اپنی بہن کی فوتگی میں شرکت کے لیے جانا جائز ہے؟

جواب

عدت کے  دوران معتدہ عورت کے لیے(شرعی)  ضرورت (مثلاً مکان منہدم ہوجائے یا مال و جان  یا  عزت آبرو کا خطرہ وغیرہ ) کے بغیر گھر سے نکلناجائز نہیں ہے،شرعی اعتبار سے  عدت کے دوران بہن کی فوتگی میں تعزیت وغیرہ کے لیے جانا(شرعی )ضرورت میں شامل نہیں ہے،لہذا فون وغیرہ پر ہی تعزیت کرلی جائے،گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین  میں ہے:

"(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا تخرجان منه (إلا أن تخرج أو ينهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه."

(كتاب الطلاق، باب العدۃ،فصل فی الحداد،ج3،ص536،ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507101983
تاریخ03-02-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں