بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرآن مجید کے شہید اوراق کا حکم

سوال

شہید قران مجید کے بوسیدہ اور اق  کا  کیا حکم؟

جواب

قرآن مجید کے شہید اور مقدس اوراق سے متعلق حکم یہ ہے کہ انہیں پاک کپڑے میں لپیٹ کر گڑھا کھود کر ایسی جگہ دفن کیا جائے جو قدموں سے روندی نہ جاتی ہو  ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"الكتب التي لاينتفع بها يمحى عنها اسم الله وملائكته ورسله ويحرق الباقي، ولا بأس بأن تلقى في ماء جار، كما هي أو تدفن وهو أحسن كما في الأنبياء....

 لكن عبارة المجتبى: والدفن أحسن كما في الأنبياء والأولياء إذا ماتوا، وكذا جميع الكتب إذا بليت وخرجت معنى الانتفاع بها اهـ يعني أن الدفن ليس فيه إخلال بالتعظيم؛ لأن أفضل الناس يدفنون. 
 وفي الذخيرة: المصحف إذا صار خلقاً وتعذر القراءة منه لايحرق بالنار، إليه أشار محمد، وبه نأخذ. ولايكره دفنه. وينبغي أن يلف بخرقة طاهرة ويلحد له؛ لأنه لو شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه، وفي ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقف، وإن شاء غسله بالماء أو وضعه في موضع طاهر لاتصل إليه يد محدث ولا غبار ولا قذر تعظيماً لكلام الله عز وجل."

(ج:6، ص:422،  ط:سعید)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507101921
تاریخ03-02-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں