بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ضرورت کے تحت نامحرم سے گفتگو کرنا

سوال

کیا کسی نا محرم  سے  دینی معاملے کے بارے میں بات کرنا یا اگر وہ کسی غلط گمان میں ہو  تو  اسے  قرآن اور حدیث  وغیرہ بتاناجائز ہے یا نہیں ؟جب کہ بات صرف دینی معاملے میں ہی ہو ، کوئی اور فالتو بات نہ ہو۔

جواب

صورت ِمسئولہ میں اگر  کسی نامحرم  سے بات چیت کی  ضرورت ہو اور دینی یا دنیاوی مصالح اس پر موقوف ہوں  تو شرعاًبقدرِ ضرورت ، پردے میں رہ کر ،لہجے میں سنجیدگی  کے  ساتھ نا محرم سے گفتگو کرنے کی اجازت ہے،خصوصًا عورت اپنے لہجے میں نرمی نہ لائے، اور  جہاں ایسی  کوئی ضرورت نہ ہو،   وہاں گفتگو کی اجازت نہیں ہوگی۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"فإنا نجيز ‌الكلام ‌مع ‌النساء الأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة."

(كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة،  ج:1، ص:285، ط:سعيد)

وفیہ ایضاً:

"إن ‌الضرورة ‌تتقدر بقدرها."

(كتاب النكاح، باب العدة، ج:3، ص:532، ط:سعيد)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507101904
تاریخ02-02-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں