بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

موزوں پر مسح سے پہلے پاؤں دھونا ضروری ہے

سوال

اگر موزے بغیر وضو کے پہنے ہوں اور نماز مسح کر کے پڑھ لی جائے تو کیا حکم ہے؟دہرائی جائے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ موزوں پر مسح اس وقت جائز ہے جب موزوں کو مکمل وضو کرکے پہنا جائے، یعنی پاؤں کو بھی دھو لیا جائے، اس کے بعد اگلے وضو میں موزوں پر مسح کرنا درست ہو تاہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر بے وضوآدمی نے پاؤں دھوئے بغیر موزوں پر مسح کر لیا تو اس کا وضو نہیں ہوا، اور اس وضو کے ساتھ جو نماز پڑھی ہے وہ بھی نہیں ہوئی ہے، اس کی قضاء لازم ہے۔

مراقی الفلاح میں ہے:

"ويشترط لجواز المسح على الخفين سبعة شرائط: الأول" منها لبسهما بعد غسل الرجلين ولو حكما."

(‌‌باب المسح على الخفين، ص: 56، ط: المکتبة العصرية)

حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:

"ويشترط لجواز المسح على الخفين سبعة شرائط: الأول" منها "‌لبسهما ‌بعد ‌غسل ‌الرجلين ولو حكما" كجبيرة بالرجلين أو بإحداهما."

(باب المسح على الخفين، ص: 129، ط: دار الكتب العلمية بيروت۔ لبنان)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507101871
تاریخ01-02-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں