بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک رات میں دو مرتبہ احتلام ہونے پر کتنے غسل لازم ہوں گے؟

سوال

احتلام اگر رات میں ایک سے زائد بار جائے، تو کتنی مرتبہ غسل کرنا ہوگا؟ مثلاً دو بار احتلام سے دو بار غسل؟

جواب

بصورتِ مسئولہ اگر ایک دفعہ احتلام ہوجانے کے بعد غسل کرلیاتھا، پھر دوبارہ احتلام ہوگیا تو دوبارہ غسل کرنالازم ہے، لیکن اگر پہلے احتلام کے بعد غسل نہیں کیا تھا، کہ دوبارہ احتلام ہوگیا، تو اب ایک غسل ہی دونوں احتلاموں  کےلیے کافی ہوگا۔

الأشباه والنظائر  میں ہے:

"‌‌القاعدة الثامنة: إذا اجتمع أمران من جنس واحد، ولم يختلف مقصودهما دخل أحدهما في الآخر غالبا. فمن فروعها: إذا اجتمع حدث وجنابة، أو جنابة وحيض كفى الغسل الواحد."

(ص:١١٢،القاعدۃ الثامنة، الفن الأول: القواعد الكلية، ط: دار الكتب العلمية)

حاشية ابن عابدين   میں ہے:

"ويكفي ‌غسل ‌واحد لعيد وجمعة اجتمعا مع جنابة كما لفرضي جنابة وحيض.

(قوله: اجتمعا مع جنابة) أقول: وكما لو كان معهما كسوف واستسقاء، وهذا كله إذا نوى ذلك ليحصل له ثواب الكل تأمل."

(ص:١٦٩،ج:١،کتاب الطهارة، سنن الغسل، ط: ايج ايم سعيد)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507101863
تاریخ01-02-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں