بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طاووس (مور) کھانے کا حکم

سوال

طاووس کھانا حلال ہے یا حرام ؟

جواب

طاووس (مور )حلال جانور ہے، اور اس کا گوشت کھانا حلال ہے ۔احادیث   مبارکہ  میں جن جانوروں اور پرندوں کے گوشت کھانے سے منع کیا گیا ہے یہ ان  ممنوعہ  جانوروں میں شامل نہیں ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولابأس بأكل الطاوس  وعن الشعبي يكره  أشد الكراهة، وبالأول يفتي كذا في الفتاوي الحمادية".

(کتاب الذبائح، الباب الثاني في  بيان مايؤ كل من الحيوان ومالا يؤ كل، ج :5، ص:290، ط:رشيدية)

 'الفقہ علی المذاھب الاربعة '  میں  ہے:

"ويحل من الطير أكل العصافير  بأنواعها والسمان  والقنبر والزرزور والقطا والكروان والبلبل والببغاء والنعامة  والطاووس".

(کتاب الحظر والاباحة ، مبحث مایمنع أكله وما يباح  أو ما يحل ، وما لا يحل، ص :412، ط: دار الغد الجدید)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507101810
تاریخ31-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں