بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چمڑے کے موزے پرجراب پہن کر مسح کرنا

سوال

چمڑے کے موزوں پر اونی جراب پہن کر مسح کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ چمڑے کے موزوں کے اوپر جراب پہن کرجراب  پر مسح کرنااس صورت میں جائز ہے کہ  جب جراب پہننے سے پہلے حدث لاحق نہ ہو چکا ہو ،حدث کے لاحق ہونے کے بعداگر   جراب پہنی ہو تو اس پر مسح کرنا جائز نہیں۔

بدالصنائع  میں ہے:

"إنما يجوز المسح على الجرموقين عندنا إذا لبسهما على الخفين قبل أن يحدث، فإن أحدث ثم لبس الجرموقين لا يجوز المسح عليهما، سواء مسح على الخفين أولا، أما إذا مسح فلأن حكم المسح استقر على الخف فلا يتحول إلى غيره وأما إذا لم يمسح؛ فلأن ابتداء مدة المسح من وقت الحدث وقد انعقد في الخف فلا يتحول إلى الجرموق بعد ذلك؛ ولأن جواز المسح على الجرموق لمكان الحاجة لتعذر النزع وهنا لا حاجة؛ لأنه لا يتعذر عليه المسح على الخفين ثم لبس الجرموق فلم يجز ولهذا لم يضر المسح على الخفين إذا لبسهما على الحدث كذا هذا ولو مسح على الجرموقين ثم نزع أحدهما مسح على الخف البادي وأعاد المسح على الجرموق الباقي في ظاهر الرواية. "

(كتاب الطهارة، فصل في المسح على الخفين، المسح على الجورب، ج:1 ص:11 ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507101798
تاریخ31-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں