بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

موسم بدلنے پر مذاق میں کسی کو کہنا کہ "تم نے پھر سردی کروا دی" یا یہ کہنا کہ "تم نے بارش کروا دی ہے" کیسا ہے؟

سوال

موسم بدلنے پر مذاق میں کسی کو کہنا کہ "تم نے پھر سردی کروا دی" یا یہ کہنا کہ "تم نے بارش کروا دی ہے" کیسا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں ایک شخص کا دوسرے کو یہ کہنا کہ  "تم نے پھر سردی کروا دی" یا یہ کہنا کہ "تم نے بارش کروا دی ہے"  مجازی نسبت  کے طورپر استعمال ہوتا ہے اس وجہ سے    اس کلام  سے   کفرتو لازم نہیں آتا البتہ   چوں  کہ یہ ایک  لغو کلام ہے ؛ اس لیے اس جیسے  کلام سے  گریز کیا جائے۔

قرآنِ مجید میں ہے:

" وَالَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ."(سورہ مؤمنون: آیت:3)

ترجمہ:" اور جولغو باتوں سے( خواہ قولی ہو یا فعلی) برکنار رہنے والے ہیں۔"(از بیان القرآن)

سنن ترمذی میں ہے:

"عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: من حسن إسلام المرء تركه مالا يعنيه."

(کتاب الزهد، باب قبیل باب في قلة الکلام: ج:4،ص:558، ط: دار إحیاء التراث العربي)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507101761
تاریخ31-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں