بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رقم دے کر کپڑے خریدنے کا کہا تو اس رقم سے کتابیں خریدنے کا حکم

سوال

اگر کوئی کسی کو پیسے دے کر کہےکہہ کہ ان سے اپنے لیے کپڑے خریدلیں تو کیا وہ اس سے اپنے  لیےکتابیں خرید سکتا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر کسی کو کپڑے خریدنے کے لیے پیسےدیئے تو   وہ پیسے اس کی ملکیت ہیں وہ اس سے جو چاہے خرید سکتا ہے، اگرکتابیں خریدنا چاہے تو یہ بھی جائز ہے، البتہ اس کے مشورے کے مطابق عمل کرنا بہتر ہے۔

درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"‌كل ‌يتصرف ‌في ‌ملكه المستقل كيفما شاء أي أنه يتصرف كما يريد باختياره أي لا يجوز منعه من التصرف من قبل أي أحد هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير."

[الكتاب العاشر: الشركات، ج: ۳، صفحہ: ۲۰۱، ط: دار الجيل]

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507101734
تاریخ31-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں