بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ثمن کے اعتبار سے بیع کی چار قسمیں ہیں

سوال

ثمن کے اعتبار سے بیع کی کتنی قسمیں ہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں ثمن کے اعتبار سے بیع کی چار قسمیں ہیں، مساومہ:یعنی بائع اور مشتری جس قیمت پر اتفاق کر لیں اس قیمت پر بیچنے کا نام بیع مساومہ ہے۔

مرابحہ:یعنی کسی  چیز کو اس  کی قیمتِ  خرید  پر  نفع کے ساتھ فروخت کرنا  "مرابحہ"  کہلاتا ہے

 تو لیہ:یعنی کسی  چیز کو اس  کی قیمتِ  خرید  پر  نفع کے بغیر فروخت کرنا "تولیہ"  کہلاتا ہے۔

اور وضیعہ: یعنی طے شدہ قیمت سے کم پر فروخت کرنا"وضیعہ "کہلاتا ہے۔

بعض نے ایک پانچویں قسم اشراک بھی بنائی ہے، لیکن وہ بیع تولیہ کے تحت داخل ہے۔

تبیین الحقائق میں ہے:

"ثم أنواع البياعات بحسب الثمن الذي يذكر بمقابلة السلعة أنواع أربعة ‌المساومة وهي التي لا يلتفت فيها إلى الثمن السابق والمرابحة والتولية والوضيعة وهي البيع بأنقص من الثمن الأول"

(باب التولية، ج: 4، ص: 73، ط: المطبعة الكبري الأميرية بولاق۔ مصر)

تحفۃ الفقہاء میں ہے:

"البيع في حق البدل ينقسم خمسة أقسام بيع ‌المساومة وهو البيع بأي ثمن اتفق وهو المعتاد
والثاني بيع ‌المرابحة وهو تمليك المبيع بمثل الثمن الأول وزيادة ربح
والثالث بيع ‌التولية وهو تمليك المبيع بمثل الثمن الأول من غير زيادة ولا نقصان
والرابع الإشراك وهو بيع ‌التولية في بعض المبيع من النصف والثلث وغير ذلك
والخامس بيع ‌الوضيعة وهو تمليك المبيع بمثل الثمن الأول مع نقصان شيء منه"

(باب الإقالة والمربحة، ج: 2، ص: 105، ط: دار الكتب العلمية، بيروت۔ لبنان)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507101594
تاریخ29-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں