بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جانور کے مادہ منویہ کے خریدوفروخت کا حکم

سوال

کیا جانور کے مادہ منویہ کی خرید و فروخت جائز ہے؟جب کہ اس پر تعامل کثرت سے جاری ہے؟

جواب

     واضح رہے کہ شرعاً کسی چیز کی خرید و فروخت کے جواز کے لیے اس کا مالِ متقوم اورشرعاًقابل ِانتفاع ہونا ضروری ہے، اور مادہ منویہ نجس ہے اور شرعاً مال نہیں ہے،اورجو چیز مال نہیں تو  اس کی خرید و فروخت بھی درست نہیں ،لہذاصورتِ مسئولہ میں جانور کے مادہ منویہ(اسپرم) کی خریدوفروخت جائز نہیں ہے اگرچہ اس پر کثرت سے تعامل ہو  ۔

بدائع الصنائع میں ہے :

"ولاينعقد بيع الملاقيح، والمضامين الذي ورد النهي عنه؛ لأن المضمون ما في صلب الذكر، والملقوح ما في رحم الأنثى، وذلك ليس بمال، وعلى هذا أيضاً يخرج بيع عسب الفحل؛ لأن العسب هو الضراب، وأنه ليس بمال، وقد يخرج على هذا بيع الحمل أنه لاينعقد؛ لأن الحمل ليس بمال."

(کتاب البیوع،فصل فی الشرط الذی یرجع الی المعقود علیہ،ج:5،ص:145،دارالکتب العلمیۃ)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"ولا ينعقد بيع الملاقيح والمضامين. ‌والملقوح ‌ما ‌في ‌رحم ‌الأنثى، وعلى هذا يخرج بيع عسب الفحل والحمل هكذا في البدائع."

(کتاب البیوع،الباب التاسع فیما لایجوز بیعہ ومایجوز ،ج:3،ص:116،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507101492
تاریخ28-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں