بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حرام کمائی والے کی امامت کا حکم

سوال

 جس آدمی کی کمائی حرام ہو وہ امام ہوسکتا ہے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں ایسا شخص جس کی کمائی حلال نہیں ہے، وہ فاسق کے حکم میں ہے اور اس کو امام بنانا مکروہ ہے، جب تک وہ حرام کمانے سے توبہ تائب نہ ہوجائے، یعنی ایسے امام کے پیچھے نماز کراہت کے ساتھ ہوجائے گی، اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں لیکن ثواب اتنا نہیں ملے گا جتنا ایک متقی امام کے پیچھے نماز پڑھنے سے ملتا ہے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"ويكره إمامة عبد ... وفاسق..." إلخ.

(قوله وفاسق) من الفسق: وهو الخروج عن الاستقامة، ولعل المراد به من يرتكب الكبائر كشارب الخمر، والزاني وآكل الربا ونحو ذلك، كذا في البرجندي إسماعيل."

(کتاب الصلاۃ،باب الامامۃ،ج:1،ص:559،سعید)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144507101482
تاریخ28-01-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں